دنیا کا وہ پہلا ملک جہاں 5 جی سروس کا آغاز کر دیا گیا

سڈنی (ویب‌ڈیسک) اسمارٹ فونز پر تیز ترین انٹرنیٹ کے لیے 5 جی ٹیکنالوجی کی تیاری کافی عرصے سے جاری ہے اور اب پہلی بار کسی ملک میں اس کے وائی فائی ہاٹ اسپاٹس نصب کردیئے ہیں۔ جی ہاں آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں 5 جی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے وائی فائی ہاٹ اسپاٹس نصب کیے گئے ہیں۔مگر بری خبر یہ ہے کہ چونکہ اس وقت 5 جی ٹکنالوجی والا کوئی فون یا ٹیبلیٹ دستیاب نہیں، تو کوئی بھی حقیقی 5 جی اسپیڈ کو استعمال کرنے سے قاصر ہے۔

آسٹریلین موبائل آپریٹر ٹیلسٹرا نے آسٹریلیا کی ایسٹ کوسٹ کے ساتھ پورٹ میں 5 جی ہاٹ اسپاٹس نصب کیے تاکہ 5 جی ٹیسٹ ورک کو آزمایا جاسکے۔اب وہاں فائیو جی کی صلاحیت والے ہاٹ اسپاٹس تو موجود ہیں مگر مفت وائی فائی استعمال کرنے والے افراد کو اس ٹیکنالوجی کی رفتار جاننے کا موقع نہیں رہا۔اس کی وجہ وائی وائی تھروپٹ کا محدود ہونا ہے اور دوسری وجہ 4 جی فونز کی موجودگی ہے۔

کمپنی نے اپنے بیان میں بتایا کہ 5 جی نیٹ ورک پر انٹرنیٹ اسپیڈ 3 جی بی پی ایس تک جاسکتی ہے مگر صارفین کی ڈیوائسز میں یہ محض 100 ایم بی پی ایس تک محدود ہے۔تاہم یہ بھی پبلک وائی فائی کے حوالے سے کافی متاثرکن رفتار ہے جو عام طور پر کافی کم ہوتی ہے۔دنیا بھر میں اس وقت 5 جی ٹیکنالوجی کے حوالے سے مقابلہ جاری ہے اور بیشتر ممالک اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے دیگر پر سبقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم موبائل آپریٹرز، ٹیلی کام انفراسٹرکچر کمپنیاں، فونز بنانے والی کمپنیاں اور ریگولیٹرز فائی جی اسٹینڈرڈز جب تک طے نہیں کرتے، مکمل طور پر اس ٹیکنالوجی کا سامنے آنا ممکن نہیں ہوگا۔خیال رہے کہ رواں سال ستمبر میں تھری جی پی پی کانفرنس میں فائیو جی اسٹینڈرڈ طے کیے جانے کا امکان ہے۔آسٹریلین کمپنی کے مطابق 5 جی ہاٹ اسپاٹس اور پہلی فائیو جی کنکٹڈ گاڑی کی آزمائش کا مقصد اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے لوگوں کو تیار کرنا ہے۔