رات کو پرفیوم لگا کر سونے والی لڑکی کو جب پرفیوم لگانے سے روکا گیا تو اچانک


    میں جب میٹرک میں تھی تب مجھے پرفیوم لگانے کا شوق ایسا پیدا ہوا کہ میں گھر سے نکلتے پرفیوم چھڑک لیتی ،سکول پہنچتی تو ٹیچرز مجھے منع کرتیں کہ پرفیوم لگا کر سکول نہیں آیا کرو ۔میری اس عادت سے ماماپاپا بری طرح چڑتے تھے ،میں لاڈلی اور اکلوتی اولاد تھی ا سلئے وہ میری ایک ایک بات پر پریشان ہوجاتے ۔خاص طور پر جب میں نے رات کو بھی پرفیوم لگا کرسونا شروع کردیا تو ماما کو بے حد غصہ آیا ’’ تمہیں کیا مسئلہ ہے‘پرفیوم لگائے بغیر تمہیں نیند نہیں آتی‘‘
    وہ الگ کمرے میں سوتی تھیں اور میں الگ۔
    ’’ ماما کیا ہوگیا ہے آپ لوگوں کو،اگر میں پرفیوم لگاتی ہوں تو برا کیوں لگتا ہے آپ سب کو ‘‘ 
    ’’ مایا میری جان تمہاری ابھی عمر ہی کیا ہے ‘‘وہ مجھے سمجھانے کی کوشش کرتیں
    ’’پرفیوم کا عمر سے کیا تعلق ماما‘‘میں جرح کرتی۔
    ’’ بڑا تعلق ہے میری جان ۔سیانے کہتے ہیں کہ بچیوں کو خوشبو نہیں لگانی چاہئے ۔رات کو تو بالکل نہیں ‘‘
    ’’ رات کو ایسا کیا ہوجاتا ہے‘‘
    ’’ بس تم نہ لگا یا کرو کہیں کوئی گڑ بڑ نہ ہوجائے‘‘
    میں نے دیکھا وہ کافی نروس دکھائی دے رہی تھیں۔’’ کیسی گڑ بڑ؟ ‘‘
    ’’ سنا ہے کہ جو لڑکیاں راتوں کو خوشبو لگا تی ہیں انہیں چڑیلیں یا کوئی جن پکڑ لیتا ہے‘‘میں نے سہمے لہجے میں بتایا۔
    ’’ واو ،واقعی ماما پھر تو بڑا مزہ آئے گا۔میں نے ان کا نام تو سنا ہوا ہے چلو کسی روز ملاقات بھی ہوجائے گی‘‘ میں نے انہیں چڑاتے ہوئے کہا
    ’’ تم سمجھتی کیوں نہیں مایا ۔بچپنا چھوڑ دو اور میری بات سن لو۔میں تمہاری ساری پرفیومز یہاں سے اٹھا رہی ہوں ‘‘
    میں نے دیکھا ماما کافی سیریس ہیں ۔میں نے انہیں مطمئین کرنے کے لئے وعدہ کرلیا ’’ اوکے ۔کل سے نہیں لگاؤں گی ‘‘
    ’’ سکول بھی لگا کر نہیں جاوگی‘‘ 
    ’’ اوکے‘‘ میں نے بادل ناخواستہ وعدہ کرلیا ۔وہ مطمئن ہوگئیں اور میرا ماتھا چوم کر اپنے کمرے میں چلی گئیں ۔
    اگلے روز سکول جاتے ہوئے میں نے پرفیوم نہیں لگائی اور جب واپس آئی تو مجھے عجیب سی تھکن کا احساس ہورہا تھا ۔رات ہوئی تو یہ بے چینی اور بڑھ گئی۔ماما سونے سے پہلے ملنے آئیں تو مجھے سونگھ کر ہنس پڑیں ’’ گڈ میری جان ‘‘

    وہ تو چلی گئیں لیکن مجھے نیند بالکل نہیں آئی ۔رات کے آخری پہر مجھے نیند آئی تو صبح سکول جانے کے وقت تک سوئی رہی۔ماما نے اٹھایا لیکن میں نہیں اٹھی اور کہا ’’ میری طبعیت خراب ہے ،میں نہیں جاسکوں گی‘‘ ماما نے زور نہیں دیا۔میں دوپہر تک سوئی پڑی رہی۔جب اٹھی تو میرا سر درد سے پھٹا جارہا تھا ۔آنکھیں سرخ اور آواز بھاری ہورہی تھی۔رات بھر جاگنے کی وجہ ہوسکتی تھی۔اس رات بھی میں دیر تک جاگتی رہی،اپنا آپ مجھے بہت بھاری لگتا رہا،ناتوانی عجیب تھی،لگتا تھا بدن میں جان اور قوت نام کی چیز ہی نہیں ۔
    صبح جب ماما نے اٹھاکر سکول بھیجنا چاہا تو میں پھر نہ اٹھ سکی اور بد خوابی میں نہ جانے کیا کیا بولتی رہی۔ماما گھبرا گئیں اور انہوں نے ڈاکٹر کو کال کرلیا ۔یہ ہمارے فیملی فزیشن تھے۔اس وقت تک میں جاگ اٹھی تھی۔مجھے چیک کرکے وہ بولے’’ ویسے تو نارمل ہے لیکن ڈپریشن سا لگ رہا ہے ‘‘ انہوں نے مجھے دوا دی جس کو کھانے کے باجود میری حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
    وہ رات تو میرے لئے سوہان روح ثابت ہوئی ،صبح تک میں جاگتی رہی اور ماما میری بے چینی دیکھ دیکھ کر گھبراتیں اور اپنے ساتھ لپٹاتی رہیں۔میں اگلا سارا دن بھی نہ سو سکی اور میری حالت ایسی ہونے لگی جیسے میں کسی کو کاٹ کھانا چاہتی ہوں ۔ماما سے بدتمیزی بھی کی۔ان خاصا چلائی ۔
    ماما نے مجھے رات کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا فیصلہ کرلیا لیکن اتفاق سے اس شام میرے ماموں عقیل گھر آئے۔وہ مجھ سے بڑا پیار کرتے تھے۔میری حالت دیکھ کر وہ بہت پریشان ہوئے ،ماما تو ان کے سامنے رونے لگی تھیں۔ماموں بے حد علمی انسان ہیں اور گہری سوچ رکھتے ہیں۔انہوں نے ماما کو تسلی دی اور کہا’’ اللہ خیر کرے گا۔آج رات ڈاکٹر کے پاس نہیں جاؤ اور اسکو پرفیوم لگا کر سونے دو‘‘
    ماما نے چونک کر اپنے بھائی کو دیکھا
    ’’میں کہہ رہا ہوں ناں ۔۔ایک بار لگانے دو اسکو ‘‘
    ماموں کے کہنے پر میں نے پرفیوم لگائی اور اپنے کمرے میں بھی اسکا سپرے کیا حتٰی کہ اپنے بیڈ پر بھی ،میں بتا نہیں سکتی کہ اس وقت مجھے کتنا اچھا لگ رہا تھا ۔پرفیوم لگانے کے کوئی آدھ گھنٹہ کے اند ہی اندر مجھے دماغ میں تروتازگی کا احساس سا ہوا ۔میرے بدن میں ہلکی ہلکی کپکپاہٹ ہونے لگی اور مجھے بے تحاشا بھوک لگ گئی۔میں نے ماما سے کہا توانہوں نے مجھے کھانا دیا ۔کھانے کے بعد میں کچھ دیر ٹہلتی رہی اور پھر کمرے میں جا کر لیٹی اور نہ جانے کب سوئی مگر اٹھی سکول جانے سے آدھ گھنٹہ پہلے۔
    ماما پاپا مجھے یوں دیکھ کر خوش ہوگئے لیکن ماموں خاموش رہے پھر مجھے پیار کیا اور کہا ’’ میں رات کو دوبارہ آوں گا‘‘
    رات کو ماموں واپس آئے تو ان کے ساتھ ایک بزرگ تھے۔ان کی چھوٹی چھوٹی داڑھی تھی،عمر ساٹھ سال ہوگی۔ہاتھ میں تسبیح کے دانوں پر کچھ پڑھتے ہوئے انہوں نے مجھ پر پھونک ماری اور سر پے پیار کیا۔اس وقت تک مجھے کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ ایسا کیوں کررہے ہیں ۔انہوں نے کچھ پڑھنے کے بعد منرل واٹر کی بوتل منگوائی اور اس پر دم کرکے ماما سے کہا’’ بیٹی کو یہ پانی تین روز تک پلانا ہے،کم ہوجائے تو تازہ پانی اس میں شامل کرلیں۔

    انشا اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا، پانی پینے کے بعد پرفیوم نہیں لگانی ‘‘ ماما نے مجھے فوری دم والا پانی پینے کے لئے دیا۔میں اب کچھ اپ سیٹ ہورہی تھی کہ ایسا کیوں ہورہا ہے،میں نے رات کو بھی دم والا پانی پیا اور اس رات وقت پر سوگئی اور صبح سکول جاتے ہوئے ماما نے دم والا پانی ایک دوسری بوتل میں بھی دے دیا تاکہ پیاس لگے تو یہ پانی ہی پیؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تین دن تک وہ پانی پینے اور پرفیوم نہ لگانے کانتیجہ یہ نکلا کہ میری نیند خراب نہیں ہوئی۔بلکہ پھر کبھی مجھے یہ مسئلہ پیش نہیں آیا۔ میں حیران ہوکر ماما سے پوچھتی کہ ایسی کیا بات ہوئی ہے میرے ساتھ لیکن وہ مجھے تین سال تک ٹالتی رہیں۔پھر جب میں ایف ایس سی کا امتحان دیکر ماموں کے ہاں گئی تو میں نے انہیں قسم دیکر پوچھا کہ وہ مجھے بتائیں تو انہوں نے جواباً قسم لیکر بتایا ’’مایا پتری ،تم پر کسی ہوائی مخلوق کا سایہ ہوگیا تھا ۔خوشبو اس کو بہت پسند تھی اور وہ آہستہ آہستہ تم پر قابض ہورہی تھی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ بروقت اندازہ ہوگیا ۔اگر زیادہ وقت گزر جاتا تو س سے جان چھروانی مشکل ہوجاتی ۔‘‘ ماموں کی یہ بات سن کر میں حیران اور دنگ رہ گئی ۔اس کے بعد میں جب بھی کسی کو پرفیوم لگاتے دیکھتی ہوں گھبرا سی جاتی ہوں۔



    SHARE